Flood 2022
سیلاب آیا سیلاب آیا
یہ وہ ذکر ہے جو ہر کچھ عرصے کے بعد ہمیں سننے کو ملتا ہے لیکن اس کے لیے نہ تو کچھ کیا جاتا ہے اور نہ ہی کچھ سوچا جاتا ہے نشیبی علاقوں میں رہنے والوں کا بہت نقصان ہو جاتا ہے ان کو فون پر جاتے ہیں اور ساتھ آزمائش کا یا پھر عذاب کا نام دیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی اس کو مس مینجمنٹ
(mismanagement)
نہیں سمجھتا جب سب اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوگا تو وہ اس کے لئے لیے کیا تدبیر کرے گا اور اس میں کوئی ایک نہیں بلکہ تمام صاحب اقتدار اس میں شامل ہیں
پاکستان میں سیلاب 2010 کے
میں بھی آیا۔۔۔ پاکستان کے خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے علاقوں میں مون سون کی شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی
۔ پاکستان کے کل زمینی رقبے کا تقریباً ایک پانچواں حصہ سیلاب سے متاثر ہوا، صوبہ خیبر پختونخوا کو نقصانات اور جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا (90% سے زیادہ اموات اسی صوبے میں ہوئیں.
ملک بھر میں 1,985 اموات ہوئیں۔2010 کے سیلاب کے بعد، پنجاب حکومت نے بعد ازاں 22 'ڈیزاسٹر ریزیلینٹ' ماڈل ولیجز بنائے، جن میں 1885 سنگل منزلہ مکانات، اسکول اور صحت کے مراکز شامل تھے۔ کلائمیٹ اینڈ ڈویلپمنٹ نالج نیٹ ورک یہ مشورہ دیاکہ
نئے انفراسٹرکچر کو مستقبل میں پیش آنے والے شدید موسمی واقعات کے لیے کس طرح لچکدار بنایا جاے گا
لیکن پھر اس پر کتنا کام کیا گیا اور کیا کیا گیا اس کے بارے میں ہم نہیں جانتے
افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے سڑکوں پر تو تجاوزات قائم کر رکھی ہے
حتیٰ کہ نالوں پر بھی تعمیرات کردی جاتی ہیں
اب ندی نالوں اور دریاؤں پر بھی تجاوزات قائم ہیں سڑکوں کی تجاوزات تو آپ رشوت یا طاقت کے بل بوتے پر قائم رکھ سکتے ہیں لیکن پانی کے بہاؤ کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں جب تک کہ اس کے لئے کوئی مناسب ہے تعبیر نہ کی جائے
پاکستان ایک ایسا ملک ھے جس میں هر مصیبت کو اللہ کے عذاب کا نام دیا جاتا ھے۔ لیکن یہ اللہ کا عذاب نہیں بلکہ پاکستانی حکمرانوں کی ناآھلی کا عذاب ھے۔
۔دریاوں اور نالوں کی زمین پر بھی پاکستان کے تمام بددیانت لوگ اس میں شامل ہیں کہیں دریاؤں کی زمین پر قبضہ کر لیا جاتا ہے لیکن یہ کبھی ایسے نہیں ہوجاتا اس میں تمام بڑے ہاتھ شامل ہوتے ہیں اور پھر قدرت نے اپنا فیصلہ دیا تو رونا کیسا۔۔۔؟ -
اتنی بارشوں سے زمین میں پانی کی کمی تو پوری ہوگئ ہوگی۔ لگتا ہے اس بار مون سون نے پچھلے سالوں کی کمی
پوری کر دی ہوگی مگر اس نقصان بھی بہت زیادہ ہؤا ہے۔ یہ سب اللہ کے کام ہیں اگر وہ بارشیں نہ برساۓ تو ہم تب بھی کچھ نہیں کر سکتے اور اگر وہ موسلا دھار بارشیں برسانے پہ آجاۓ اور یہ نقصان دینا شروع کر دیں تو ہم تب
وہی غلطیاں بار بار کرتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ مقامی حکومتی محکموں کو تو چھوڑیں وہ صرف ہمارے ٹیکس خرچ کرنے کیلیۓ بیٹھے ہوتے ہیں اور تنخواہیں اور دیگر مراعات سے مستفید ہوتے ہیں۔ لوگوں کو بہتر ہے دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیۓ بجاۓ اسکے کہ خود بھاری نقصان کراکے سیکھیں۔
نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو انتظامات کرنے شروع کر دینے چاہیے کیونکہ جب پانی آگے کی طرف بڑھتا ہے تو لمحوں میں کہیں چپ ہی نکل جاتا ہے
وہی غلطیاں بار بار کرتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ مقامی حکومتی محکموں کو تو چھوڑیں وہ صرف ہمارے ٹیکس خرچ کرنے کیلیۓ بیٹھے ہوتے ہیں اور تنخواہیں اور دیگر مراعات سے مستفید ہوتے ہیں۔ لوگوں کو بہتر ہے دوسروں کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیۓ بجاۓ اسکے کہ خود بھاری نقصان کراکے سیکھیں۔
لہٰذا نشیبی علاقوں میں رہنے والے تما
م افرد سے درخواست ہے جہاں وارننگ جاری کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے علاقوں سے نکل جائیں اور اپنی جانیں بچائیں۔
جہاں تمہیں لگتا ہے کہ تم ڈوب جاؤ گیے وہاں اللہ تمہیں تیرنا سکھا دیتا ہے ۔

Comments
Post a Comment