Allah ki shan

 یَسۡئَلُہٗ  مَنۡ  فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلَّ  یَوۡمٍ ہُوَ  فِیۡ  شَاۡنٍ ﴿ۚ۲۹﴾آسمانوں میں اور زمین میں جوبھی ہے سب اُسی سے مانگ رہاہے۔وہ روزانہ ایک نئی شان میں ہےیعنی ہر روز اور ہرآن وہ اپنی کائنات کی تدبیر اور اپنی مخلوقات کی حاجت روائی میں اپنی کسی نہ کسی شان یا صفت کا مظاہرہ فرماتا رہتا ہےنبی کریم نے اس قول کی وضاحت اس طرح سے فرمائی ابودرداء نبی کریم کے اس قول  کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ بھی اس کی شان ہے کہ وہ گناہ معاف کرتا ہے پریشانی دور کرتا ہے کچھ لوگوں کا کام کرتا ہے ہر آن  ہر لمحہ اللہ تعالی کسی نہ کسی انسان  کی  حاجت پوری کر رہا ہے کسی کی دعا سن رہا ہے سب کچھ اللہ تعالی کے اذن سے ہو رہا ہے جو اللہ تعالی کو پہچانتے ہیں وہ ناامید نہیں ہوتے وہ ہر معاملہ اسی کے سپرد کرتے ہیں جب صبح دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے اور جب شام دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اب اللہ تعالی ہمارے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے یعنی وہ اللہ تعالی ہی کی تدابیر کو دیکھتے رہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اختیار سارے کا سارا اسی کے پاس ہے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں کسی کے پاس کچھ بھی نہیں

Comments